Pages

Tuesday, 5 August 2014

فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی، آئرلینڈ میں غیرمسلم تاجروں کااسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ

بیلفاسٹ: صیہونی فوج غزہ میں ہر روز درجنوں نہتے فلسنیوں کو شہید کررہی ہے اور مسلم دنیا اپنے ذاتی مفادات کے پیش نظر صرف زبانی جمع خرچ ہی کررہی ہے لیکن آئرلینڈ کا ایک ایسا قصبہ ہے جہاں کے غیر مسلم تاجروں نے اسرائیلی مصنوعات کا ہی بائیکاٹ کردیا ہے۔ 
آئرلینڈ کے کثیر الاشاعت اخبار ’’آئرش انڈیپینڈنٹ‘‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق آئرلینڈ کے قصبے کینوارا میں مقامی تاجروں، ہوٹل مالکان اور کیمسٹس نے ’غزہ پر جاری صیہونی بمباری‘ کے تناظر میں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ قصبے میں فعال غیر سرکاری تنظیم ’’آئرش فلسطین یکجہتی مہم (IPSC)‘‘ کے کوآرڈینٹر کیون اسکوائرز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مقصد پرامن انداز سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا اظہار ہے تاکہ وہ فلسطینی علاقوں پر اپنا قبضہ ختم کرے اور بین الاقوامی قانون کا احترام کرے۔
فلسطین کی حمایت میں پیش پیش آئرش خاتون وکی ڈونیلی کا کہنا ہے کہ ہمیں اس وقت شرمندگی ہوئی جب آئرلینڈ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے اجلاس میں غزہ پر اسرائیلی کارروائی کی تحقیقات کے سلسلے میں پیش کردہ قرارداد میں اپنا ووٹ استعمال نہ کیا۔ آئرش حکومت نے ایسا نہ کرکے بچوں، خواتین اور مردوں کے قتل عام کو روکنے کے لئے اپنے سفارتی دباؤ کا استعمال نہیں کیا مگر ہمیں فخر ہے کہ کینوارا کے رہائشیوں نے اس بین الاقوامی مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکت میں عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے جاری اس تنازعے میں 18 سو سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی جارحیت پر فرانس اور برطانیہ بھی خاموش نہ رہ سکے

غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے معصوم فلسطینیوں کے لئے اسکول میں قائم اقوام متحدہ کے کیمپ کو نشانہ بنانے پر فرانس اور برطانیہ نے بھی  مذمت کی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ لورینٹ فیبیوس نے غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں سیکیورٹی کے نام پر بربریت نہیں کرسکتا، اسرائیل اور فرانس کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں تاہم غزہ میں معصوم بچوں اور خواتین کے قتل عام کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی اور صیہونی فوج کی جانب سے غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ اور اسرائیل کی صورتحال کا فوری طور پر سیاسی حل تلاش کیا جائے۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بھی غزہ میں اسرائیلی بربریت پر خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ عالمی قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانا غیرقانونی  ہے اور غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جو کچھ کیا جارہا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے خلاف اورغزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں انگلینڈ، جرمنی، آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک میں مظاہرے کئے گئے جس میں صیہونی فوج کی بربریت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کے اسکول پر صیہونی فوج کی بمباری کے نتیجے میں متعدد فلسطینی  شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد  اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے حملے کو ظلم اور سفاکیت قرار دیا تھا۔

غزہ میں صیہونی بربریت پر عالمی برادری کی خاموشی سنگین جرم ہے، شاہ عبداللہ

ریاض: سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ نے غزہ کی صورتحال پر عالمی برادری کی خاموشی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے سنگین جرم قراردیا ہے۔
سعودی نیوز ایجنسی پر جاری بیان میں سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کی نظروں کے سامنے معصوم فلسطینیوں کا قتل عام کیا جارہا ہے جبکہ صیہونی فوج کی جانب سے نہتے معصوم فلسطینی شہریوں کا خون بہانا جنگی جرم ہے۔ شاہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی پر عالمی برادری دور کھڑی تماشا دیکھ رہی ہے جو انتہائی قابل افسوس عمل ہے۔

اسرائیل نے ایک بار پھر جنگ بندی کی دھجیاں بکھیر دیں، غزہ پر شدید بمباری

غزہ سٹی: صیہونی افواج نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر جنگ بندی کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے غزہ میں شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک بچہ شہید جب کہ 30 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے ایک بار پھر آج صبح غزہ میں 7 گھنٹوں کے لئے جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن ابھی ایک گھنٹہ بھی پورا نہ گزرا تھا کہ صیہونی توپوں نے معصوم فلسطینیوں پر آگ کے گولے برسانے شروع کر دیئے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں شتی کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں اب تک ایک بچہ شہید جب کہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل گزشتہ روز اسرائیل نے غزہ میں اقوام متحدہ کے زیر اثر چلنے والے اسکول پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 10 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے جب کہ گزشتہ روز اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائی میں مجموعی طور پر 40 شہادتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل کی جانب سے یو این کے اسکول پر حملے کو مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مزمت کی تھی۔ دوسری جانب بولیویا نے اسرائیل کو غزہ میں معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی پر آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے اس کے خلاف پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ ونیزویلا نے صیہونی درندگی کا شکار یتیم فلسطینی بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان عید الفطر کے موقع پر 72 گھنٹوں کے لئے جنگ بندی ہوئی تھی لیکن صیہونی افواج نے صرف 4 گھنٹوں بعد ہی جنگ بندی کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے 100 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا۔ اسرائیلی بمباری میں اب تک 1850 فلسطینی شہید جب کہ 10 ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں اس کے علاوہ اسکولوں، مساجد اور اسپتالوں سمیت سیکڑوں عمارتیں بھی صیہونی بمباری کے نتیجے میں تباہ ہو چکی ہیں لیکن اس کے باوجود عالمی برادری اسرائیل کے خلاف کارروائی کے بجائے صیہونی افواج کو اس بات کے مواقع فراہم کر رہی ہے کہ وہ معصوم فلسطینیوں کے خلاف اپنی جارحیت برقرار رکھ سکے۔ دوسری جانب حماس کی جوابی کارروائی میں اب تک 66 صیہونی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔